سامراجي طاقتيں منطق اور مذاکرات پر يقين نہيں رکھتيں : حجت الاسلام کاظم صديقي

سامراجي-طاقتيں-منطق-اور-مذاکرات-پر-يقين-نہيں-رکھتيں-حجت-الاسلام-کاظم-صديقي

شفقنا (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – تہران کے خطيب نماز جمعہ نے کہا ہے کہ سامراجي طاقتيں منطق اور مذاکرات پر يقين نہيں رکھتيں- تہران يونيورسٹي ميں نماز جمعہ کے عظيم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام کاظم صديقي نے کہا کہ ملت ايران پابنديوں کے نتيجے ميں خودکفيل ہوئي ہے اور پابنديوں ميں اضافے سے قومي اتحاد و يکجہتي ميں بھي اضافہ ہوگا- تہران کے خطيب جمعہ نے ايران کے خلاف پابنديوں کو غير موثر قرار ديتے ہوئے کہا کہ ايران پر بابندياں لگانے سے خود مغربي ملکوں پر اقتصادي دباؤ ميں اضافہ ہوگا- جناب کاظم صديقي نے مصر کے اسلام پسند اميدوار محمد مرصي کي کاميابي کو اسلامي بيداري کي علامت قرار ديا- سحر ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس انتخاب سے مصري عوام کے اسلام کي جانب رجحان کا پتہ چلتا ہے- تہران کے خطيب نمازجمعہ کا کہنا تھا کہ مصر کے انتخابات ديگر ملکوں کے لئے بھي واضح پيغام کے حامل ہيں کہ ڈکٹيٹر حسني مبارک چلا گيا اور دوسرے ڈکٹيٹروں کو بھي جانا پڑے گا- انہوں نے کہا کہ امريکہ اور دوسرے سامراجي ممالک اب ڈکٹيٹروں کو بچانے ميں کامي ک؛؛اا؛اب نہيں ہوسکتے – حجت الاسلام  کاظم صديقي نے کہا کہ اسرائيل کي غاصب حکومت کا مقابلہ کرنا اور کيمپ ڈيوڈ معاہدے کي منسوخي ، مصري عوام اور انقلابيوں کي اولين خواہش ہے اور اس ملک کے منتخب صدر کو اسے اپنے ايجنڈے ميں سر فہرست رکھنا ہوگا- تہران کے خطيب جمعہ نے بحرين ميں سعودي عرب کي حمايت يافتہ شاہي حکومت کے مظالم کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بحرين کي حکومت سعودي فوجيوں کي مدد سے عوام پرظلم ڈھا رہي ہے تاہم شاہي حکومت کو آخر کار جانا ہوگا- تہران کے خطيب جمعہ  کاظم صديقي نے عراق کي صورتحال کي جانب بھي اشارہ کيا اور يہ بات زور ديکر کہي کہ بعض گروپ امريکہ کے تعاون سے وزيراعظم نوري المالکي کی حکومت کا تختہ الٹناچاہتے تھے تاہم ان کي يہ سازش ناکام ہوگئي ہے-

www.shafaqna.com/urdu

شفقنا اردو

پنجاب: مریض مسیحا کے انتظار میں مارے مارے پھر رہے ہیں

پنجاب-مریض-مسیحا-کے-انتظار-میں-مارے-مارے-پھر-رہے-ہیں

شفقنا- (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – ڈاکٹروں نے پنجاب حکومت کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا, ہڑتال اور آئوٹ بند ہونے سے غریب مریض علاج کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں. دنیا نیوز کے مطابق ڈاکٹروں نے سروس سٹرکچر کے مطالبے پر ہڑتال کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ صرف لاہور کے ہسپتالوں کے آئوٹ ڈور میں آنے والے روزانہ تیس ہزار سے زائد مریض علاج کی سہولت سے محرو م ہو رہے ہیں۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال میں ان کا کیا قصور ہے۔ دوسری جانب ہڑتال کرنیوالے ڈاکٹرز بھی اپنی ضد پہ اڑے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ حکومت ان کے جائز مطالبات تسلیم کرلے۔ اگر حکومت نے ہڑتال ختم کروانے کے لیے کوئی اور حربہ استمال کیا تو وہ ایمرجنسی بھی بند کرنے سے گریز نہں کریں گے۔ حکومت ڈاکٹرز سے اپیل تو کر رہی ہے مگر ابھی تک انتظامیہ کو ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف کسی قسم کے اقدامات کرنے کا حکم نہیں دیا۔ دوسری جانب فیصل آباد میں ینگ ڈاکڑز نے پنجاب حکومت کے خلاف ریلی نکال کر سروس رولز کے تحت کارروائی کرنے حکومتی دعوئوں کی دھجیاں اڑا دیں۔ ینگ ڈاکڑز کی ہڑتال اور آئوٹ بند ہونے سے غریب مریض علاج کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ملتان میں ینگ ڈاکٹرز نے سروس سٹرکچر کے حصول کے لیے بارہویں روز بھی ہڑتال جاری رکھتے ہوئے آئوٹ ڈور وارڈ کو تالے لگا دیے جس سے مریضوں کی بڑی تعداد وارڈز کے باہر بے یار و مدد گار کسی مسیحا کا انتظار کرتی رہی۔ علاج نہ ہونے پر مریضوں نے مایوسی کا اظہار کیا۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ مفت علاج کے لیے میلوں سفر کرکے ہسپتال آتے ہیں لیکن ہڑتال کے باعث علاج نہ ہونے سے وہ پریشان ہیں۔ واضع رہے کہ پنجاب حکومت نے ڈاکٹرز کی سروس کو لازمی قرار دیتے ہوئے انہیں ڈیوٹی پر حاضر رہنےکی ہدایت کی تھی۔ حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق پولیس اور دیگرعوامی سروسز کے اداروں کی طرح اب ڈاکٹروں کی سروس اور حاضری کا شمار بھی لازمی سروسزمیں ہوگا اور رولز کی خلاف ورزی پر لازمی سروسز رولز کے تحت کارروائی کی جائے گی جس کےتحت ہڑتال کرنے والے ڈاکٹر کو ایک سال کی قید ہوسکتی ہے۔ حکومت پنجاب نے ینگ ڈاکٹرز کی طرف سےمتعدد بارکی جانیوالی ہڑتالوں کے بعد میڈیکل سروسز کو لازمی سروسز میں شامل کیا ہے۔ جو ڈاکٹر آج سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوگا اسے ایک سال کے لئے جیل بھجوا دیا جائے گا۔
www.shafaqna.com/urdu
شفقنا اردو

گروپ 1+5 کومنطقی مذاکرات پر عدم توجہ کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔سعید جلیلی

گروپ-1+5-کومنطقی-مذاکرات-پر-عدم-توجہ-کے-سنگین-نتائج-کا-سامنا-کرنا-پڑے-گا۔سعید-جلیلی

 

 

شفقنا- (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری سعید جلیلی نے گروپ 1+5 کی سربراہ اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کتھرین اشٹائن کے نام اپنے خط میں گروپ 1+5 کومنطقی مذاکرات پر عدم توجہ کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ جلیلی نے اپنے خط میں تاکید کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا منطقی مذاکرات  پرمکمل  یقین  ہے اور منطقی مذاکرات کے ذریعہ ہی ہم کسی کامیاب نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔ جلیلی نے اپنے خط میں  استنبول، بغداد اور ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےتاکید کی ہے کہ مذاکرات اسی وقت کسی مطلوب نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں جب طرفین ایکدوسرے کے ساتھ مکمل تعاون  کریں اورمذاکرات میں ایرانی  قوم کے اعتماد اور حقوق کو مد نظر رکھا جائے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری فریق مقابل پر عائد ہوگی جو منطقی مذاکرات سے پہلو تہی اور فرار اختیار کرنے کی کوشش کررہا ہے
www.shafaqna.com/urdu
شفقنا اردو

ہند وستان : طوفانی بارشوں اور سیلاب سے نو لاکھ افراد متاثر

ہند-وستان--طوفانی-بارشوں-اور-سیلاب-سے-نو-لاکھ-افراد-متاثر

شفقنا- (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے نو لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ مہر کے مطابق آسام میں گزشتہ پندرہ دن سے مون سون کی شدید بارشیں جاری ہیں اور یہ ریاست میں سنہ انیس سو اٹھانوے کے بعد آنے والا بدترین سیلاب ہے۔ بارشوں کے نتیجے میں اب تک ستائیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جن میں سے پانچ دریا میں کشتی ڈوبنے سے مارے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق سیلاب نے ریاست کے ستائیس میں سے اکیس اضلاع میں تباہی مچائی ہے اور ان اضلاع کا بڑا حصہ زیرِ آب آگیا ہے۔
www.shafaqna.com/urdu
شفقنا اردو

اسپین اور اٹلی آمنے سامنے

اسپین-اور-اٹلی-آمنے-سامنے

شفقنا- (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – اٹلي نے یوروکپ 2012 ء کے سيمي فائنل ميں جرمني کو2-1 ہرا کر فائنل ميں اپنی جگہ بنا لی. وارسا ميں کھيلے گئے ميچ ميں اٹلي نے شاندار کھيل پیش کيا .اٹلي کي جانب سے دونوں گول ماريو بالوٹيلي  نے اسکور کيے.يورو کپ2012 کا فائنل دفاعي چمپئن اسپن اور اٹلی کے درميان يکم جولائي کو کھيلا جائے گا.
www.shafaqna.com/urdu
شفقنا اردو

گلہ ديش ميں سیلاب اور لينڈ سلائيڈنگ سے ہلاکتوں کي تعداد 110 ہوگئي

گلہ-ديش-ميں-سیلاب-اور-لينڈ-سلائيڈنگ-سے-ہلاکتوں-کي-تعداد-110-ہوگئي

شفقنا- (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – بنگلہ ديش ميں سیلاب اور لينڈ سلائيڈنگ سے ہلاکتوں کي تعداد 110 ہوگئي جبکہ مختلف مقامات پرڈھائي لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہيں جنھيں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ليے امدادی کارروائیاں جاري ہیں. مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بنگلہ ديش ميں سیلاب اور لينڈ سلائيڈنگ سے ہلاکتوں کي تعداد 110 ہوگئي جبکہ مختلف مقامات پرڈھائي لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہيں جنھيں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ليے امدادی کارروائیاں جاري ہیں. بنگلہ دیش کے ٹاگانگ ، سلہٹ اور ديگر شہروں ميں ايک ہفتے سے جاري موسلادھار بارش ،سيلاب اورمٹي کے تودے گرنے سے مختلف حادثات ميں اب تک 110افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمي ہوئے ہيں. سو سے زائد افراد لاپتہ ہيں. حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں ميں ڈھائي لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہيں ، جنھيں محفوظ مقامات پرمنتقل کرنے کيلئے فوج ،پوليس اور فائر بريگيڈ کا ريسکيوآپريشن جاري ہے.

www.shafaqna.com/urdu
شفقنا اردو

افغانستان میں دہشت گردپناہ گاہوں کاخاتمہ ضروری ہے، پاکستان

افغانستان-میں-دہشت-گردپناہ-گاہوں-کاخاتمہ-ضروری-ہے،-پاکستان

شفقنا- (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – ا قوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب عبداللہ حسین ہارون کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ حسین ہارون نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ سرحد پار سے آئے شدت پسندوں کی جانب سے پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کے قتل پر پاکستان کی خاموشی کا ناجائزفائدہ نہ اٹھایا جائے۔ ہم نے اس سنگین واقعے پرسرکاری سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ اے آر وائی کے مطابق  طالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل پر بات کرتے ہوئے عبداللہ حسین کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل افغان حکومت کی زیر قیادت اور ان کی مرضی سے ہونا چاہیے۔
www.shafaqna.com/urdu
شفقنا اردو

بس دھماکے کے خلاف ہڑتال ،کوئٹہ سوگ میں ڈوبا ہوا

بس-دھماکے-کے-خلاف-ہڑتال-،کوئٹہ-سوگ-میں-ڈوبا-ہوا

شفقنا- (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – کوئٹہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہے، زائرین کی بس پر دھماکے کے خلاف شہر کے مختلف علاقوں میں شٹرڈاوٴن ہڑتال کی جارہی ہے۔ کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔ اے آر وائی کے مطابق ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے شٹرڈاوٴن کی اپیل اور پشتونخواء ملی عوامی پارٹی، جمہوری وطن پارٹی ،، تاجر برادری نے حمایت کی ہے۔ زائرین کی بس پر حملے کے خلاف مجلس وحدت المسلمین تین روز کا سوگ منارہی ہے۔ شرپسندوں نے جمعرات کو دہشت گردی کی ہولناک کارروائی کرتے ہوئے ایران سے آنے والی زائرین کی بس کو نشانہ بنایا تھا جس میں چودہ مسافر جاں بحق اور تیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ بم ڈسپوزل کے مطابق دھماکے میں چالیس سے پچاس کلو گرام بارود استعمال کیا گیا۔ ادھرمجلس وحدت المسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ بلوچستان امریکا نواز دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نا اسلام کے حامی ہیں اور نہ ہی پاکستان کے دوست ہیں۔ انہوں نے مجلس وحدت المسلمین کی طرف سے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔دوسری طرف تحریک نفاذ فقہ جعفریہ صوبہ بلوچستان کے صدر سردار طارق احمد جعفری نے کوئٹہ شہر اور مقامات مقدسہ کی زیارت کے ر استوں کی نگرانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
www.shafaqna.com/urdu
شفقنا اردو

امریکہ کی بڑی بڑی باتیں صرف قوموں‌ کو ہراساں کرنے کے لیے ہیں

امریکہ-کی-بڑی-بڑی-باتیں-صرف-قوموں‌-کو-ہراساں-کرنے-کے-لیے-ہیں

شفقنا- (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکی بین الاقوامی میدان میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن یہ باتیں قوموں کو ہراساں کرنے کے لئے ہیں۔ ریڈیو تہران کے مطابق علی لاریجانی نے جمعرات کے روز ایک اجتماع سے خطاب میں کہا کہ گزشتہ دس سال کے دوران مغربی اور سامراجی طاقتوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کیں لیکن ان میں ننانوے فید صد باتیں صرف باتیں ہی تھیں ، عمل کہیں نظر نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ بش کے دورۂ صدارت میں ایران پر فوجی حملہ کی بات کہی گئي لیکن حملہ نہیں ہوا کیونکہ فریق مخالف کے پاس بصیرت اور مجاہدت نہیں تھی۔علی لاریجانی نے کہا کہ اگر آج ایران سامراجی طاقتوں کے مقابل استقامت و مزاحمت کر رہا ہے تو بصیرت اور مجاہدت کے جذبہ کی وجہ سے ہے۔
www.shafaqna.com/urdu
شفقنا اردو

خاتون قرآن کی روشنی میں

خاتون-قرآن-کی-روشنی-میں

حضرت انسان میں سلسلہ تفاضل، ابتداء خلقت انسان سے موجود ہے۔سب سے پہلے تفاضل یعنی ایک دوسرے پہ فضیلت کا دعویٰ حضرت آدم – اور ملائکہ کے درمیان ہوا۔جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے۔ وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِیّ جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُوْا أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَ ج وَنَحْنُ نُسِبِّحُ بِحَمْدِکَ ونُقَدِّسُ لَکَ “اور تیرے رب نے جب فرشتوں سے کہا. میں اس زمین میں ایک خلیفہ ( نائب ، نمائندہ ) بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں اس کو خلیفہ بنائے گا جو وہاں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا جب کہ ہم تیری حمد و ثناء کی تسبیح اور پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں۔” (بقرہ ۳۰) پھر یہ سلسلہ تفاضل و تفاخر قابیل و ہابیل میں ہوا جب خدا وند قدوس نے ایک کی قربانی قبول فرمائی اور دوسرے کی رد کر دی۔
وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ م إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِینَ۔
“اور آپ انہیں آدم کے بیٹوں کا حقیقی قصہ سنائیں۔ جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی تو اس نے کہامیں ضرور تجھے قتل کر دوں گا (پہلے نے کہا ) اللہ تو صرف تقویٰ رکھنے والوں سے قبول کرتا ہے ۔” (مائدہ :27)
یہ سلسلہ تفاضل و تفاخر یعنی ایک دوسرے پر فوقیت کا دعویٰ آج بھی موجود ہے ہر جگہ رائج ہے حالانکہ مرد اور عورت دونوں انسان ہیں، دونوں کی خلقت مٹی سے ہوئی ہے جیسا کہ ارشاد ہوا ۔ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ “وہی تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ۔” (موٴمن :67) وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِیْنٍ ج ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَة ً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ۔ “ضاور بتحقیق ہم نے انسان کو مٹی سے بنایا پھر ہم نے اسے محفوظ جگہ میں نطفہ بنا دیا۔” ( الموٴمنون :12.13)
مرداور عورت خلقت کے لحاظ سے مساوی اور برابر ہیں، دونوں کی خلقت مٹی سے ہوئی، نطفہ سے پیدائش کے بعد تمام مراحل میں ایک جیسے ہیں پھر ذکر و انثیٰ یعنی مرد اور عورت کی پیدائش کے حوالے سے ارشاد رب العزت ہو رہا ہے : یَاأَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّأُنثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۔
“اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ،پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔”(حجرات: 13) ہاں تو خلقت ایک جیسی، محل خلقت ایک جیسا ، اساس خلقت ایک ، اس کے باوجود تفاضل و تفاخر کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔ آخر کیوں ؟ اسلام نے خواہ مرد سے مرد کا مقابلہ ہو یا عورت کا عورت سے تقابل ہو، یا مردا ور عورت کا آپس میں تفاخر ہو، ان سب میں برتری کا معیار صرف تقویٰ، خوف خدا اور عظمت ِرب کے احساس کو قرار دیا ہے ارشاد ہو رہا ہے: إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہ أَتْقَاکُمْ۔ “اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ” (حجرات :13)
مرد اور عورت کے باہمی فخر و مباہات کا سلسلہ ایسا چلا کہ عورت کو بے چارا بنا دیا گیا۔ قبل از اسلام تو انسانیت کے دائرہ سے بھی خارج قرار دیا گیاتھا، یونانیوں میں عورت کا وجود ناپاک اور شیطانی تصور کیا جاتا تھا۔ عورت فقط خدمت اورنفسانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ تھی۔ رومی لوگ عورت کو روح انسانی سے خالی جانتے تھے وہ اسے قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ساسانی بادشاہوں کے زمانے میں عورت کا شمار اشیاء خرید و فروخت میں ہوتا تھا، یہودیوں میں عورت کی گواہی نا قابل قبول تھی۔ زمانہ جاہلیت کے عرب تو بیٹی کی پیدائش کو اپنے لئے موجب ننگ و عار جانتے تھے۔ہندو اور پارسی ،عورت کو ہر خرابی کی جڑ ، فتنہ کی بنیاد اور حقیر ترین چیز شمار کرتے تھے۔ چین کے فلسفی (کونفوشیوس) کا قول ہے عورت حکم و احکام دینے کے قابل نہیں ہے ،
عورت کو گھر میں بند رہنا چاہئے تاکہ لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔قبل از اسلام جزیرہ نما عرب میں عورت زندہ رہنے کے قابل نہیں سمجھی جاتی تھی۔ بیٹی کی پیدائش ننگ و عار اور فضیحت و شرمساری کا موجب تھی ۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا اور ایسی عظمت دی جس کا تصور کسی غیر مسلم معاشرے میں ممکن نہیں ہے ۔ اسلام میں عورت کی عظمت کا کیا کہنا کہ جب بیٹی ملنے آتی تو علت غائی ممکنات ، انبیاء کے سرداربنفس نفیس تعظیم کیلئے کھڑے ہو جاتے اور اپنی مسند پر بٹھاتے عظمت عورت کا ذریعہ جناب فاطمہ ہیں ۔ قبل از اسلام اہل عرب بیٹی کو زندہ در گور کر دیا کرتے تھے ۔جیساکہ قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے۔
وَاِذَا الْمَوْء دَةُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ۔ “اور جب زندہ در گور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی ۔” (تکویر :9-8) یہ قبیح رسم اس قدر عام تھی کہ جب عورت کے وضع حمل کا وقت قریب آتا تو زمین میں گڑھا کھودکر اسے وہاں بیٹھا دیا جاتا پھراگر نوزائیدہ لڑکی ہوتی تو اسے اس گڑھے میں پھینک دیا جاتا اور اگر لڑکا ہوتا تو اسے زندہ چھوڑ دیا جاتا ،اسی لئے اس دور کے شعراء میں ایک شاعر بڑے فخریہ انداز میں کہتا ہوا نظر آتا ہے: سمیتھا اذا ولدت تموت والقبر صہرضامن زمیت (مجمع البیان ج 10ص444)
“میں نے اس نوزائدہ لڑکی کا نام اس کی پیدائش کے وقت تموت (مر جائے گی) رکھا اور قبر میرا داماد ہے، جس نے اسے اپنی بغل میں لے لیا اور اسے خاموش کر دیا۔” بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کی رسم بڑی دردناک ہے۔ ان واقعات کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، اس نے (متأثر ہونے کے بعد سچا اسلام قبول کیا ) ایک آپ کی خدمت میں آ کر عرض کرنے لگا یا۔ رسول اللہ اگر میں نے کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہو تو کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا:
“خد ا رحم الراحمین ہے ۔” اس نے عرض کیا یا رسول اللہ !میرا گناہ بہت بڑا ہے۔ فرمایا! وائے ہو تجھ پر تیرا گناہ کتنا ہی بڑا ہی کیوں نہ ہو خدا کی بخشش سے تو بڑا نہیں ؟۔ اس نے کہا !اگر یہ بات ہے تو میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں زمانہ جاہلیت میں ،میں دور دراز سفر پر گیا ہوا تھا، ان دنوں میری بیوی حاملہ تھی چار سال بعد گھر لوٹاتو میری بیوی نے میرا ستقبال کیا ،گھر میں ایک بچی پر نظر پڑی، میں نے پوچھا یہ کس کی بیٹی ہے ؟
بیوی نے کہا !ایک ہمسائے کی بیٹی ہے۔ میں نے سوچا یہ ابھی اپنے گھر چلی جائے گی، لیکن مجھے اس وقت بہت تعجب ہوا جب وہ نہ گئی ،آخر کار مجھے پوچھنا ہی پڑا ،میں نے بیوی سے پوچھا ۔سچ بتایہ کس کی بیٹی ہے ؟ بیوی نے جواب دیا۔ آپ سفر پر تھے، یہ پیدا ہوئی، یہ تمہاری ہی بیٹی ہے۔ وہ شخص کہتا ہے۔ میں نے ساری رات پریشانی میں گزاری ،کبھی آنکھ لگتی اور کبھی بیدار ہو جاتا، صبح قریب تھی میں بستر سے اٹھا میں نے بچی کو ماں کے ساتھ سویا ہوا دیکھا ، بڑی خوبصورت لگ رہی تھی اسے جگایا اور کہا۔ میرے ساتھ چلو ہم نخلستان کی طرف چلے وہ میرے پیچھے پیچھے چل رہی تھی، جب ہم نخلستان میں پہنچے میں نے گڑھا کھودنا شروع کیا، وہ میری مدد کرتی رہی ،مٹی باہر پھینکتی رہی، میں نے اسے بغل کے نیچے سے ہاتھ رکھ کر اٹھایا اور اسے گڑھے میں پھینک دیا۔ یہ سننا تھا رسول اعظم کی آنکھیں بھر آئیں ۔
اس نے بات کو آگے بڑھایا، میں نے اپنا بایاں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا تاکہ وہ باہر نہ نکل سکے اور دائیں ہاتھ سے مٹی ڈالنے لگا اس نے بہت کوشش کی اور بڑی مظلومانہ انداز میں فریاد کرتی تھی اور بار بار کہتی تھی بابا جان! کچھ مٹی آپ کی داڑھی اور کپڑوں میں پڑ گئی ہے، وہ ہاتھ بڑھا کر اس مٹی کو صاف کرنے لگی ،لیکن میں پوری قساوت اور سنگدلی سے اس پر مٹی ڈالتا رہا، یہاں تک اس کے نالہ و فریاد کی آخری آواز آئی اور وہ خاک میں دم توڑ گئی۔ حضرت رسول اعظم نے دکھی حالت میں یہ داستان سنی، پریشانی ظاہر تھی۔اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے فرمایا: اگر رحمت خدا کو اس کے غضب پر سبقت نہ ہوتی تو حتمًاجتنا جلدی ہوتا خدا اس سے انتقام لیتا۔ (القرآن ،یواکب الدہر،ج 2ص 214)
جزیرہ عرب کے کفار توہین کے انداز میں ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور فرشتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ بیٹی کی پیدائش پر ان کا چہرہ مارے غصہ کے سیاہ ہو جاتاہے جیسا کہ ارشاد خدا ندی ہے:
أَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنَاتٍ وَّأَصْفَاکُمْ بِالْبَنِیَنَ وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَانِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْہُہ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ أَوَمَنْ یُنَشَّأُ فِی الْحِلْیَةِ وَہُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ وَجَعَلُوا الْمَلاَئِکَةَ الَّذِینَ ہُمْ عِبَادُ الرَّحْمَانِ إِنَاثًا أَشَہِدُوْا خَلْقَہُمْ ۔
“کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے (اپنے لیے)بیٹیاں بنا لیں ہیں اور تمہیں بیٹے چن کردیئے حالانکہ ان میں سے جب کسی ایک کوبھی بیٹی کامثردہ سنایا جاتا ہے جو اس نے خدا ئے رحمان کی طرف منسوب کی تھی تواندر اندر غصے سے پیچ و تاب کھا کر اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے۔ کیا وہ جو ناز و نعم کے زیورمیں پلی ہے اور جھگڑے کے وقت (اپنا) مدعا بھی واضح نہیں کرسکتی۔ (اللہ کے حصہ میں آتی ہے؟) اورا ن لوگوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں (خدا کی)بیٹیاں بنا ڈالا ۔ کیا وہ فرشتوں کی پیدائش کو کھڑے دیکھ رہے تھے؟ (زخرف،16تا19)
ہو سکتاہے کہ یہ خیال زمانہ جاہلیت کی خرافات سے عربوں تک پہنچا ہو لیکن عرب ظلم و جور میں بہت آگے بڑھ گئے وہ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے ۔ (زخرف،16تا19) ارشاد خدا وندی ہے:
وَیَجْعَلُونَ لِلَّہِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَہ وَلَہُمْ مَّا یَشْتَہُوْنَ وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثَی ظَلَّ وَجْہُہ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْءِ مَّا بُشِّرَ بِہ أَیُمْسِکُہ عَلٰی ہُوْنٍ أَمْ یَدُسُّہ فِی التُّرَابِ أَلاَسَاءَ مَا یَحْکُمُوْنَ
“اور انہوں نے اللہ کے لیے بیٹاں قرار دے رکھی ہیں جس سے وہ پاک و منزہ ہے اور یہ لوگ اپنے لیے وہ اختیار کرتے ہیں جو یہ پسند کریں یعنی لڑکے اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو غصے کی وجہ سے ان کا منہ سیاہ ہوجاتاہے اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا انہیں اس ذلت کے ساتھ زندہ رہنے دیا جائے یا انہیں زیر خاک دفن کردیا جائے۔دیکھو کتنا برا فیصلہ ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ ” ( سورہ نحل آیت 57-58-59 ) بہر حال اسلام سے قبل بیٹی( لڑکی) انسان ہی نہیں سمجھی جاتی تھی اور آج بھی بیٹے کی پیدائش پر خوشیوں کے شادیانے بجتے ہیں ، مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں ،ہدیہ تبریک پیش کیا جاتاہے ۔ اوربیٹی کی پیدائش پر بس سردمہری ،سکوت اورخاموشی کا مظاہرہ ہوتا ہے آخر ایسا کیوں ہے؟ بشکریہ صادقین

 

شفقنا اردو

www.shafaqna.com/urdu