ایران پر حملہ کی صورت میں اسرائیل صفحہ ہستی سے محو اور نابود ہوجائےگا۔ میجر جنرل امیر علی حاجی زادہ

ایران-پر-حملہ-کی-صورت-میں-اسرائیل-صفحہ-ہستی-سے-محو-اور-نابود-ہوجائےگا۔-میجر-جنرل-امیر-علی-حاجی-زادہ

شفقنا (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ کےسربراہ  میجر جنرل امیر علی حاجی زادہ نے ایران کے خلاف اسرائیل کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملہ کی صورت میں اسرائیل روی زمین سے محو اور نابود ہوجائےگا۔ مہر کے مطابق حاجی زادہ نے کہا کہ اسرائیل نے اب تک کئی جنگیں کی ہیں جن میں افریقہ اور شام پر اس کے اچانک حملے اور لبنان کے خلاف فوجی کارروائی شامل ہے۔ اگر اسرائیل میں حملہ کرنے کی ہمت ہوگی تو وہ ایران پر حملہ کردےگا ۔ حاجی زادہ نے کہا کہ اسرائیل میں اتنی ہمت و توانائي نہیں کہ وہ ایران کے خلاف کوئی ایسا حملہ  کرے جو اس کی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ انھوں نے کہا کہ حزب اللہ ایک چھوٹا سا گوریلا گروپ ہے جس نے اسرائیل کو تاریخ میں پہلی مرتبہ شکست و ناکامی سے دوچار کردیا  اور اگر اسرائیل نے ایران جیسے عظیم ملک کے ساتھ  کوئی حماقت کی تواس صورت میں اسرائیل تباہ و برباد اور صفحہ ہستی سے مٹ جائےگا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل ممکن ہے امریکہ کے تعاون سے ایران پر حملہ کرے تو اس صورت میں بھی علاقہ میں موجود امریکہ کے تمام فوجی اڈے ایران کے میزائلوں کی زد میں ہیں اور امریکہ ایسا خطرہ مول نہیں لےگا۔

شفقنا اردو

www.shafaqna.com/urdu

جشن ولادت حضرت علی اکبر علیہ السلام

جشن-ولادت-حضرت-علی-اکبر-علیہ-السلام

ولادت حضرت علی اکبر علیہ السلام

حضرت علی اکبر (ع) بن ابی عبداللہ الحسین (ع) 11 شعبان سن43 ھ (1) کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ـ
آپ امام حسین بن علی بن ابی طالب (ع) کے بڑے فرزند تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام لیلی بنت مرّہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہے ـ لیلی کی والدہ میمونہ بنت ابی سفیان جوکہ طایفہ بنی امیہ سے تھیں ـ (2)
اس طرح علی اکبر (ع) عرب کے تین مہم طایفوں کے رشتے سے جڑے ہوے تھے ـ

والد کیطرف سے طایفہ بنی ھاشم سے کہ جس میں پیعبر اسلام (ص) حضرت فاطمہ (س) ، امیر المومنین علی بن ابیطالب (ع) اور امام حسن (ع) کے ساتھ سلسلہ نسب ملتا ہے اور والدہ کی طرف سے دو طایفوں سے بنی امیہ اور بنی ثقیف یعنی عروہ بن مسعود ثقفی ، ابی سفیان ، معاویہ بن ابی سفیان اور ام حبیبہ ھمسر رسول خدا (ص) کے ساتھ رشتہ داری ملتی تھی اور اسی وجہ سے مدینہ کے طایفوں میں سب کی نظر میں آپ خاصا محترم جانے جاتے تھے ـ ابو الفرج اصفہانی نے مغیرہ سے روایت کی ہے کہ: ایک دن معاویہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ : تم لوگوں کی نظر میں خلافت کیلۓ کون لایق اور مناسب ہے ؟ اسکے ساتھیوں نے جواب دیا : ہم تو آپ کے بغیر کسی کو خلافت کے لایق نہیں سمجھتے ! معاویہ نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے ـ بلکہ خلافت کیلۓ سب سے لایق اور شایستہ علی بن الحسین (ع) ہے کہ اسکا نانا رسول خدا (ص) ہے اور اس میں بنی ھاشم کی دلیری اور شجاعت اور بنی امیہ کی سخاوت اور ثقیف کی فخر و فخامت جمع ہے (3)

حضرت علی اکبر (ع) کی شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کافی خوبصورت ، شیرین زبان پر کشش تھے ، خلق و خوی ، اٹھنا بیٹھنا ، چال ڈال سب پیغمبر اکرم (ص) سے ملتا تھا ـ جس نے پیغبر اسلام (ص) کو دیکھا تھا وہ اگر دور سے حضرت علی اکبر کو دیکھ لیتا گمان کرتا کہ خود پیغمبر اسلام (ص) ہیں ۔ اسی طرح شجاعت اور بہادری کو اپنے دادا امیر المومنین علی (ص) سے وراثت میں حاصل کی تھی اور جامع کمالات ، اور خصوصیات کے مالک تھے ـ (4)

ابوالفرج اصفھانی نے نقل کیا ہے کہ حضرت علی اکبر (ص) عثمان بن عفان کے دور خلافت میں پیدا ہوے ہیں (5) اس قول کے مطابق شھادت کے وقت آنحضرت 25 سال کے تھے ـ
حضرت علی اکبر (ع) نے اپنے دادا امام علی ابن ابی طالب (ع) کے مکتب اور اپنے والد امام حسین (ع) کے دامن شفقت میں مدینہ اور کوفہ میں تربیت حاصل کرکے رشد و کمال حاصل کرلیا ـ
امام حسین (ع) نے ان کی تربیت اور قرآن ، معارف اسلامی کی تعلیم دینے اور سیاسی اجتماعی اطلاعات سے مجہز کرنے میں نہایت کوشش کی جس سے ہر کوئی حتی دشمن بھی ان کی ثنا خوانی کرنے سے خودکو روک نہ پات تھا ـ

بہر حال ، حضرت علی اکبر (ع) نے کربلا میں نہایت مؤثر کردار نبھایا اور تمام حالات میں امام حسین (ع) کے ساتھ تھے اور دشمن کے ساتھ شدید جنگ کی ـ (6)
شایان زکر ہے کہ حضرت علی اکبر (ع) عرب کے تین معروف قبیلوں کے ساتھ قربت رکھنےکے باوجود عاشور کے دن یزید کے شپاہیوں کے ساتھ جنگ کے دوران اپنی نسب کو بنی امیہ اور ثقیف کی طرف اشارہ نہ کیا ، بلکہ صرف بنی ھاشمی ہونے اور اھل بیت (ع) کے ساتھ نسبت رکھنے پر افتخار کرتے ہوے یوں رجز خوانی کرتے تھے :

أنا عَلی بن الحسین بن عَلی نحن و بیت الله اَولی بِالنبیّ
أضرِبكُم بِالسّیف حتّی یَنثنی ضَربَ غُلامٍ هاشمیّ عَلَویّ
وَلا یَزالُ الْیَومَ اَحْمی عَن أبی تَاللهِ لا یَحكُمُ فینا ابنُ الدّعی
عاشور کے دن بنی ھاشم کا پہلا شھید حضرت علی اکبر (‏ع) تھے اور زیارت معروفہ شھدا میں بھی آیا ہے : السَّلامُ علیكَ یا اوّل قتیلٍ مِن نَسل خَیْر سلیل.(7)
حضرت علی اکبر (ع) نے عاشور کے دن دو مرحلوں میں عمر سعد کے دو سو سپاہیوں کو ھلاک کیا اور آخر کار مرّہ بن منقذ عبدی نے سرمبارک پر ضرب لگا کر آنحضرت کو شدید زخمی کیا اور اسکے بعد دشمن کی فوج میں حوصلہ آیا اور حضرت پر ہر طرف سے حملہ شروع کرکے شھید کیا ـ
امام حسین (ع) انکی شھادت پر بہت متاثر ہوے اور انکے سرہانے پہنچ کر بہت روے اور جب خون سے لت پت سر کو گود میں لیا ، فرمایا: عَلَی الدّنیا بعدك العفا.(8)

شھادت کے وقت حضرت علی اکبر (ع) کی عمر کے بارے میں اختلاف ہے ـ بعض نے 18 سال ، بعض نے 19 سال اور بعض نے 25 سال کہا ہے (9)
مگر یہ کہ امام زین العابدین (ع) سے بڑے تھے یا چھوٹے اس پر بھی مورخوں اور سیرہ نویسوں کا اتفاق نہیں ہے ـ البتہ امام زین العابدین (ع) سے روایت نقل کی گی ہے کہ جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سن کے اعتبار سے علی اکبر (ع) سے چھوٹے تھے ـ امام زین العابدین (ع) نے فریایا ہے : کان لی اخ یقال لہ علی ، اکبر منّی قتلہ الناس ـ ـ ـ (10)

حوالہ جات:
1- مستدرك سفینه البحار (علی نمازی)، ج 5، ص 388
2- أعلام النّساء المؤمنات (محمد حسون و امّ علی مشكور)، ص 126؛ مقاتل الطالبیین (ابوالفرج اصفہانی)، ص 52
3- مقاتل الطالبیین، ص 52؛ منتہی الآمال (شیخ عباس قمی)، ج1، ص 373 و ص 464
4- منتہی الآمال، ج1، ص 373
5- مقاتل الطالبیین، ص 53
6- منتہی الآمال، ج1، ص 373؛ الارشاد (شیخ مفید)، ص 459
7- منتہی الآمال، ج1، ص 375
8- ایضاً
9- ایضاً اور الارشاد شیخ مفید (رح) ص 458.
10- نسب قریش (مصعب بن عبدالله زبیری)، ص 85، الطبقات الكبری (محمد بن سعد زہری)، ج5، ص 211

بشکریہ تبیان نیٹ

اردو شفقنا

www.shafaqna.com/urdu

پنجاب:ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال نے دو زندگیاں لے لیں

پنجابینگ-ڈاکٹروں-کی-ہڑتال-نے-دو-زندگیاں-لے-لیں

شفقنا (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – پنجاب میں نوجوان مسیحاؤں کی ہڑتال نے دو زندگیاں لے لیں، ینگ ڈاکٹرز اپنی ضد پر اڑ گئے ہیں ہڑتال ختم کرنے کے لیے نئی شرط رکھ دی، فوجی ڈاکٹرز آج پنجاب حکومت کی مدد کو پہنچیں گے۔ پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال چودہویں روز بھی جاری ہے۔ فیصل آباد میں ایک اور مریض ڈاکٹرزکی غفلت کی نذر ہوگیا۔ پنجاب حکومت نے احتجاج کے توڑ کے لئے فوجی ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کرلی ہیں جو آج سے اپنی ذمے داریاں سنبھالناشروع کردیں گے۔ لاہور ، فیصل آباد ، ملتان سمیت پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال چودہویں روز بھی جاری رہی۔ سرکاری اسپتالوں میں ایمر جنسی کے علاوہ تمام وارڈز بدستور تالے پڑے رہے۔ اے آر وائی کے مطابق دور دراز سے آنے والے غریب مریضوں اور تیمارداروں کا آج بھی کوئی پرسان حال نہیں تھا اور وہ شدید اذیت میں تڑپتے رہے۔ ینگ ڈاکٹرزکا کہنا ہے وہ حکومتی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ حکومتی فیصلے کے مطابق آج سے فوجی ڈاکٹرز سرکاری اسپتالوں میں اپنی ذمے داریاں سنبھالنا شروع کردیں گے۔ ذرائع کے مطابق سینئر ڈاکٹرز ینگ ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور ہڑتال سے متعلق جلد کسی بریک تھرو کا امکان ہے۔ دوسری جانب  شیخوپورہ کے نواحی علاقہ ساہوکی ملیاں کے محنت کش خالد محمود کی آٹھ ماہ کی بچی نور فاطمہ کو ڈاکٹر نے حفاظتی انجکشن لگایا۔ جس سے بجی کی حالت غیر ہوگئی ۔اس کے چہرے اور سارے جسم پردانےنکلنے کے باعث سارا جسم گل سڑ گیا۔ بچی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اسے لاہور چلڈرن ہسپتال ریفر کر دیا۔ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث لاہور سے بھی بچی کے والد کو مایوس لوٹنا پڑا۔علاج کی سکت نہ رکھنے والے محنت کش نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ ڈاکٹر کے خلاف کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ اسکی بیٹی کا فری علاج بھی کروایا جائے۔

شفقنا اردو

www.shafaqna.com/urdu

پھر میں ہدایت پا گیا

پھر-میں-ہدایت-پا-گیا

شفقنا (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ)

منصور خطیب احمد عبد المجید نے مذہب حق قبول کر لیا

شفقنا اردو

www.shafaqna.com/urdu

کيا رسول اللہ کے زمانے ميں بھي شيعہ تھے؟

کيا-رسول-اللہ-کے-زمانے-ميں-بھي-شيعہ-تھے؟

سوال: کيا رسول اللہ کے زمانے ميں بھي شيعہ تھے؟

.جواب: جي ہاں! بالکل تھے؛ رسول اللہ (ص) کے زمانے ميں چار افراد شيعيان علي کي عنوان سے پہچانے جاتے تھے

1- حضرت سلمان فارسي (ع)  2- حضرت ابوذر غفاري (ع) 3- حضرت عمار ياسر (ع) 4- حضرت مقداد بن اسود (ع)

1- حضرت سلمان فارسي (ع)

سلمان فارسي واحد صحابي تھے جنہيں رسول اللہ (ص) «السلمان منا اهل البيت = سلمان ہم اہل بيت ميں سے ہيں» کا اعزاز بخشا تھا اور رسول اللہ (ص) نے ہي فرمايا تھا کہ سلمان ايمان کے دس درجوں ميں سے9 درجوں پر فائز ہيں!

2- حضرت ابوذر غفاري (ع)

رسول اللہ (ص) نے فرمايا کہ آسمانوں نے ابوذر سے زيادہ سچا آدمي نہيں ديکھا.

3- حضرت عمار ياسر (ع)

عمار کے والد «حضرت ياسر (رض)» اسلام کے پہلے شہيد اور ان کي والدہ «حضرت سميہ (رض)» اسلام کي پہلي شہيدہ ہيں. سورہ نحل کي آيت 106 عمار کے ايمان کي تصديق ميں اتري ہے اور رسول اکرم (ص) نے انہيں فرمايا تھا: «ويحك يا بن سمية تقتلك الفئة الباغية اے سميه کے فرزند! آفرين ہے تم پر! تم کو باغي گروہ قتل کرےگا» اور جب عمار صفين کے مقام پر معاويہ کے سپاہيوں کے ہاتھوں شہيد ہوئے تو بہت سے لوگ جو امام علي عليہ السلام کي حمايت کے حوالي سے دو دل اور متردد تھے بھي علي عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوئے اور عرض کيا کہ اب حق اور باطل کے درميان فرق واضح ہوگيا ہے اور عمار کے قاتل اہل باطل ہيں.

4- حضرت مقداد بن اسود (ع)

سيدعلي خان شيرازي اور سيدمحسن امين جبل عاملي جيسے کئي ديگر علماء نے بہت سے صحابہ رسول (ص) کا نام ليا ہے اور لکھا ہے کہ يہ صحابہ کرام علي عليہ السلام کے شيعہ تھے.رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم پر ايمان لانے والوں ميں چھٹے نمبر پر اور سابقين اولين ميں سے تھے.

صحابہ کے بعد تابعين کي باري آتي ہے اور تابعين وہ مسلمان ہيں جو نسل صحابہ کے خاتمے کے بعد آئے ہيں اور ان ميں شيعيان علي عليہ السلام کي تعداد بہت زيادہ ہوئي يہاں تک کہ ميزان الاعتدال کے مؤلف «ذہني» نے لکھا ہے کہ تابعين ميں پيروان تشيع کي تعداد اتني بڑھ گئي کہ اگر وہ لوگ نہ ہوتے تو پيغمبر اسلام (ص) کے آثار اور ان سے باقيماندہ علمي ميراث نيست و نابود ہوکر رہ جاتي.

رسول اللہ (ص) کي رحلت کے بعد اسلامي سياست کے ميدان ميں دو قسم کي تفکرات ابھر گئے؛ ايک تفکر کا تعلق عقيدہ خلافت پر استوار تھا اور يہ وہي خلافت تھي جس کي بنياد سقيفہ بني ساعدہ ميں رکھي گئي اور اس تفکر کے حاميوں نے سياسي اقتدار ابوبکر بن ابي قحافہ کو سونپا. يہ تفکر امامت کے تفکر کے مدمقابل کھڑا ہوگيا اور تفکر امامت کي بنياد «حديث ثقلين» اور حديث غدير پر مبني ہے. اس تفکر کے پيروکار نص صريح کي بنياد پر حضرت امير المؤمنين علي عليہ السلام کي امامت و خلافت کا عقيدہ رکھتے تھے.

يہ دو تفکرات گوناگوں نشيب و فراز کے ساتھ آج تک اور ايک دوسرے کے آمنے سامنے ہيں. بشکریہ ابنا

شفقنا اردو

www.shafaqna.com/urdu

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم کا انتقال ہوگيا ہے

اسرائیل-کے-سابق-وزیر-اعظم-کا-انتقال-ہوگيا-ہے

شفقنا (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) مہر نیوز نے فلسطین الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائيل کے سابق وزير اعظم اسحاق شامیر کا 97 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا ہے۔ وہ 1915 میں پولینڈ میں پیدا ہوئے اوراس نے 1935 میں اپنے خاندان کے ساتھ مقبوضہ فلسطین میں ہجرت کی، اور 1955 سے لیکر 1965 تک موساد میں سرگرم رہے  وہ 1973 میں کنیسٹ کے رکن منتخب ہوئے وہ 1983 سے ستمبر 1984 تک اور پھر 1986 سےجولائی 1992 تک غاصب صہیونی حکومت کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

شفقنا اردو

www.shafaqna.com/urdu

ایم ڈبلیوایم کے زیر اہتمام قرآن و سنت کانفرنس (تصاویر)

ایم-ڈبلیوایم-کے-زیر-اہتمام-قرآن-و-سنت-کانفرنس-تصاویر

شفقنا (بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ) – ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی (رح) کی ۲۴ویں برسی کے حوالے سے مینار پاکستان لاہور میں  قرآن و سنت کانفرنس۔ ایم ڈبلیو ایم کے مطابق کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعاد ت قاری مستحسن رضا نے حاصل کی اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکر ی نے کہا کہ 1987ء میں اسی مقام پر اسی عنوان سے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی (رح) نے کانفرنس منعقد کی تھی آج شہید کے روحانی فرزند انہی کے افکار سے درس لے کر یہ کانفرنس منعقد کر رہے ہیں اور اس عزم کو دہرا رہے ہیں کہ ہم شہید کے مشن کو زندہ رکھیں گے انہوں نے کہا کہ آج شیعان حید رکرار (ع) نے ایک بار پھر ثابت کرنا ہے کہ چاہے ۱۴ سو سال پہلے کی کربلا ہو یا عصر حاضر کی کربلا ہم ہر میدان میں یزیدیت ذلت آمیز شکست دیں گے۔ شفقنا اردو

www.shafaqna.com/urdu