’پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے‘

’پاکستان-کا-مستقبل-جمہوریت-سے-وابستہ-ہے‘

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے اورجمہوریت سے ہی ہم اقوام کی برادری میں باعزت مقام حاصل کرسکتے ہیں۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ زیرتربیت فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان جمہوری تحریک کے نتیجے میں وجود میں آیا اور اگر دیکھا جائے توصرف جمہوری ادوار میں ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت جب اقتدار میں آئی تواسے عالمی کساد بازاری، تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ سمیت کئی چیلنجز ورثے میں ملے۔ تاہم گزشتہ چار سال میں اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا نہ صرف کامیابی سے مقابلہ کیاگیا بلکہ ملکی معیشت کو بھی مثبت جانب گامزن کردیاگیا۔

سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ جمہوری حکومت ملکی دفاع اور سکیورٹی سے کبھی غافل نہیں رہی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی قوم کواعتماد میں لیاگیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ چار سال میں جمہوری حکومت کو متعدد کامیابیاں ملی ہیں جن میں تہتر کے آئین کو اصل حالت میں بحال کرنا، ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی متفقہ منظوری، اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، مشترکہ مفادات کونسل جیسے ادارے کے قیام سے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر اہم ہنگی کا فروغ شامل ہے۔

بلوچستان کا ذکرکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے بلوچستان کا احساس محرومی دور کرنے کے لیے نہ صرف آغاز حقوق بلوچستان پیکج متعارف کروایا بلکہ اس پر نوے فیصد عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کامیاب زرعی پالیسی کے باعث ملک نہ صرف گندم کی پیدوار میں خود کفیل ہوا ہے بلکہ دس لاکھ ٹن گندم برآمد بھی کی گئی۔اس کے علاوہ کپاس کی پیداوار میں نہ صرف ریکارڈ اضافہ ہوا ہے بلکہ گنے کی زیادہ پیداوار کے باعث چینی بھی برآمد کی جارہی ہے۔

اس سے قبل جب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کمانڈ اینڈ سٹاف کالج پہنچے تو بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، کمانڈر سدرن کمانڈ اور کالج کے کمانڈنٹ سمیت دوسرے اعلیٰ فوجی افسران نے ان کا استقبال کیا۔

’وزیر داخلہ رحمان ملک کی سینیٹ کی رکنیت معطل‘

’وزیر-داخلہ-رحمان-ملک-کی-سینیٹ-کی-رکنیت-معطل‘

سپریم کورٹ نے دوہری شہریت سے متعلق مقدمے کی سماعت میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی سینیٹ کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ عدالت ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سینیٹ کی رکنیت معطل ہونے کے بعد رحمان ملک وزیر داخلہ کے عہدے پر بھی فائض نہیں رہیں گے تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے اُنہیں مشیر داخلہ بنائے جانے کا امکان ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلے تک رحمان ملک کی رکنیت معطل رہے گی۔

اس سے پہلے عدالت حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی فرح ناز اصفہانی کی امریکی شہریت رکھنے پر قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کرچکی ہے۔

عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ رحمان ملک جب سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے تو اُن کے پاس دوہری شہریت تھی۔

عدالت نے دوہری شہریت سے متعلق مزید تیرہ ارکان پارلیمنٹ کو نوٹس جاری کر دیے ہیں ان میں حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کے وکیل ابھی تک شہریت چھوڑنے کا مستند سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں تاہم وزیر داخلہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اس ضمن میں دستاویزات کے حوالے سے برطانوی ہائی کمیشن کو خط بھی لکھا ہے۔

ان ارکان میں وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، ایوان بالا یعنی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین صابر بلوچ اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے خواجہ آصف بھی شامل ہیں۔

وزیر داخلہ کی طرف سے برطانوی شہریت چھوڑنے سے متعلق پیش کی جانے والی دستاویزات کو بےمعنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے وکیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کے وکیل ابھی تک شہریت چھوڑنے کا مستند سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں تاہم وزیر داخلہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اس ضمن میں دستاویزات کے حوالے سے برطانوی ہائی کمیشن کو خط بھی لکھا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دوہری شہریت سے متعلق مقدمے کی سماعت کی تو رحمان ملک کے وکیل چوہدری اظہر نے عدالت میں اپنے موکل کی طرف سے برطانوی شہریت چھوڑنے سے متعلق شواہد پیش کیے جسے عدالت نے ایک بار بھر مسترد کردیا۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ عدالت رحمان ملک سے برطانوی شہریت چھوڑنے سے متعلق جو دستاویزات پیش کی ہیں وہ مستند نہیں ہیں۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی دوہری شہریت سے متعلق کارروائی کرنے کا اختیار سپیکر یا سینیٹ کے چیئرمین کو ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالت نے فرح ناز اصفہانی کی رکنیت معطل کر کے پہلے ہی اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

وحید انجم ایڈووکیٹ نے عدالت میں تیرہ ارکان پارلیمنٹ کی فہرست پیش کی جو دوہری شہریت رکھتے تھے ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چھ، حکمراں اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے دو جبکہ پانچ کا تعلق حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون سے ہے۔

’زندگی کو لاحق مبینہ خطرات پر تشویش‘

’زندگی-کو-لاحق-مبینہ-خطرات-پر-تشویش‘

پاکستان کی سول سوسائٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چوالیس نمایاں شخصیات نے انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کی زندگی کو لاحق سنگین خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق کے کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ریٹائرڈ ججوں، جرنیلوں، صحافیوں، دانشوروں، وکلاء برادری کے منتخب رہنماؤں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی پاکستان کی سرکردہ شحصیات نے خبردار کیا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کی صورت میں خطرناک نتائج کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کی زندگی کو لاحق سنگین خطرات کی معلومات ایک ذمہ دار اور قابل بھروسہ ذریعے سے انہیں موصول ہوئیں ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق عاصمہ جہانگیر کی زندگی کو کس سے خطرہ ہے، اس بارے میں براہ راست تو کسی پر ذمہ داری عائد نہیں کی گئی لیکن یہ کہا گیا ہے کہ انہیں دھمکیاں ایسے وقت مل رہی ہیں جب پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کا ماحول ہے، مخالفت کرنے والوں کی لاشیں مل رہی ہیں اور اس کا الزام ریاست کے حد سے زیادہ استحقاق رکھنے والے اداروں پر لگ رہا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کی زندگی کو کس سے خطرہ ہے، اس بارے میں براہ راست تو کسی پر ذمہ داری عائد نہیں کی گئی لیکن یہ کہا گیا ہے کہ انہیں دھمکیاں ایسے وقت مل رہی ہیں جب پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کا ماحول ہے، مخالفت کرنے والوں کی لاشیں مل رہی ہیں اور اس کا الزام ریاست کے حد سے زیادہ استحقاق رکھنے والے اداروں پر لگ رہا ہے۔

پاکستان کی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ’ہم یہ سب پر واضح کرنا چاہتے ہیں اور بالخصوص سکیورٹی کے اداروں کے سربراہان پر کہ وہ عاصمہ جہانگیر کو پہنچنے والے نقصان کے نتائج کو معمولی نہ سمجھیں۔‘

بیان میں سختی سے کہا گیا ہے کہ یہ کسی ایک شحص کے خلاف سازش نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل اور جمہوری ریاست کے خلاف سازش ہے اور عاصمہ کو ملنے والی دھمکی اس کا ایک اہم جز ہو۔

بیان کے مطابق اس معاملے میں ریاست اور اس چیلینج سے سول سوسائٹی نے کس طرح نمٹنا ہے، اس کے سمجھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اس بیان پر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم، ڈاکٹر مبشر حسن، آئی اے رحمٰن، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سربراہان، منیر اے ملک، جسٹس (ر) طارق محمود، لیفٹینٹ جنرل (ر) طلعت مسعود، سلیمہ ہاشمی، ڈاکٹر مہدی حسن اور دیگر کے نام درج ہیں۔

محمد علی جناح کا اہم خطاب خفیہ رکھا گیا؟

محمد-علی-جناح-کا-اہم-خطاب-خفیہ-رکھا-گیا؟

پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے آل انڈیا ریڈیو کو سیکیولزم کے حوالے سے بانیِ پاکستان محمد علی جناح کے ایک اہم خطاب کی ریکارڈنگ حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی نے آل انڈیا ریڈیو کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے محمد علی جناح کے خطاب کی ریکارڈنگ کو حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔

محمد علی جناح نے قیام ِپاکستان سے تین دن قبل گیارہ اگست سنہ انیس سو سینتالیس کو کراچی میں ایک خطاب کیا تھا اور مستقبل کے سیکیولر پاکستان کا ذکر کیا تھا۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق مرتضیٰ سولنگی کا خیال ہے کہ اس خطاب کی ریکارڈنگ آل انڈیا ریڈیو کے پاس ہے۔

اس خطاب میں محمد علی جناح نے کہا تھا کہ مستقبل کے پاکستان میں مذہب، نسل اور زبان کو ترجیح دیے بغیر تمام افراد کے پاس برابر کے حقوق ہوں گے اور نئے ملک میں ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

مرتضیٰ سولنگی کے مطابق ایک ہفتے قبل انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے سربراہ سے فون پر بات کی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ وہ اس ریکارڈنگ کی تلاش میں ہیں۔ .

دوسری جانب آل انڈیا ریڈیو کے اعلٰی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ابھی تک پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی خط نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی پاکستان کی جانب سے ایسی ہی ایک درخواست کی گئی تھی، لیکن وہ ابھی تک محمد علی جناح کے اس خطاب کی ریکارڈنگ تلاش نہیں کر پائے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ محمد علی جناح نے ایسی کوئی تقریر نہیں کی کیونکہ اس کی کوئی ریکارڈنگ موجود نہیں ہے۔ محمد علی جناح کے اس خطاب پر دائیں بازو کی تنظیمیں سوال اٹھاتی رہی ہیں۔

اس خطاب کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے مرتضیٰ سولنگی نے کہا ’اس خطاب کی کاپی کو کئی سالوں تک خفیہ رکھا جاتا رہا یا مزید عام نہیں کیا گیا۔ یہ ایک بے حد اہم خطاب ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ جس طرح سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، ایسے ماحول میں اس خطاب کے ملنے اور پاکستان پہنچنے سے تعلقات بہتر ہی ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر یہ خطاب ملتا ہے تو ایسی سیاسی طاقتیں جو پاکستان کو ایک جمہوری ملک بنانا چاہتی ہیں، اس کے ہاتھوں میں ایک بڑا ہتھیار آ جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس وقت آل انڈیا ریڈیو کے سٹیشن دو طرح کے ہوتے تھے۔ ایک طرح کے سٹیشنز کو کلاس اے سٹیشن کہا جاتا تھا، اور دوسروں کو کلاس بی سٹیشن کہا جاتا تھا۔ کلاس بی سٹیشنز کے پاس ریکارڈنگ کی سہولت نہیں تھی جس میں کراچی، لاہور اور پشاور شامل تھے۔

مرتضی سولنگی کہتے ہیں کہ انہیں امید تھی کہ اس خطاب کی ریکارڈنگ بی بی سی کے پاس ہوگی، لیکن بی بی سی کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ یہ ریکارڈنگ ان کے پاس نہیں ہے۔

’نہ رات کو نیند آتی ہے، نہ دن کو‘

’نہ-رات-کو-نیند-آتی-ہے،-نہ-دن-کو‘

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں نے نہ صرف القاعدہ کو پریشان کر رکھا ہے بلکہ مقامی طالبان پر زمین تنگ کر دی ہے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سنہ دو ہزار پانچ سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون سنہ دو ہزار چار کو کمانڈر نیک محمد پر کیاگیا۔ ان کی ہلاکت کے بعد تقریباً چار سال تک بہت کم ایسا ہوا کہ کوئی مقامی کمانڈر امریکی جاسوس طیارے کے حملے کا نشانہ بنا ہو۔

سنہ دو ہزار نو میں تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود پر امریکی جاسوس طیارے کے حملے کے بعد سے ایک بڑی تعداد میں مقامی شدت پسند طالبان کمانڈر امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں مارے گئے جن میں حاجی عمر اور قاری حسین شامل ہیں۔

حاجی عمر کمانڈر نیک محمد کے جانشین تھے جبکہ قاری حسین خود کش حملہ آور تیار کرنے کے ماہر تھے۔ اب قاری حسین کی جگہ ولی محمد المعروف طوفان کو خودکش حملہ آور تیار کرنے کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مقامی طالبان کی تعداد غیر ملکیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے اور وہ کھلے عام گاڑیوں اور بازاروں میں پھرتے نظر آتے ہیں لیکن غیر ملکیوں پر ڈرون حملے زیادہ ہوتے تھے۔

اب گزشتہ ایک عرصے سے مقامی طالبان بھی سخت نشانے پر ہیں اور چند مہینوں میں ملا نذیر اور حافظ گل بہادر گروپ کے پندرہ سے زیادہ اہم افراد ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی طالبان پر حملوں میں تیزی کے بعد مقامی طالبان کا رابطوں کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے جبکہ وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں بھی شریک نہیں ہو رہے ہیں۔

مقامی افراد نے آج کل امریکی ڈرون طیارے کوایک نیا نام دیا ہے ’دہ طالبانوں پلار‘ یعنی طالبان کا باپ۔ مقامی افراد کہتے ہیں کہ یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ طالبان سوائے امریکی ڈرون حملوں کے علاوہ کسی اور سے نہیں ڈرتے۔

مبصرین کے خیال میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے بعض قبائلی عمائدین نے طالبان کے کہنے پر ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے لیکن امریکہ نے ڈرون حملے بند کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جب سے امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے تب سے طالبان شدت پسند بھی منتشر ہوگئے ہیں اور وہ مکان یا کمرے میں آرام کرنے کی بجائے کھلے آسمان تلے اور ایک دوسرے سے دور سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مقامی افراد نے آج کل امریکی ڈرون طیارے کوایک نیا نام دیا ہے ( دہ طالبانوں پلار) یعنی طالبان کا باپ۔ مقامی افراد کہتے ہیں کہ یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ طالبان علاقے میں سوائے امریکی ڈرون حملوں کے علاوہ کسی اور سے نہیں ڈرتے۔

مقامی افراد بتاتے ہیں کہ جب کسی شدت پسند طالب سے ملاقات ہوتی ہے تو ان کی پہلی فریاد یہ ہوتی ہے کہ ڈرون بہت بڑا غذاب ہے، نہ رات کو نیند آتی ہے اور نہ دن کو، بس اللہ کے بھروسے پر گزارہ کرتے ہیں۔

مقامی افاراد کے مطابق پہلے کی نسبت آج کل طالبان نے گاڑیوں میں ایک ساتھ آنے جانے کو بہت کم کر دیا ہے اور پہلے جو ایک ساتھ کسی جگہ کھانے پینے کے انتظامات کیا کرتے تھے آج کل نظر نہیں آتے۔

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے وہ صرف القاعدہ کے کسی جنگجووں کی موجودگی کو خطرہ سمجھتے تھے مگر آج کل ان کے گھر میں کسی مقامی طالب کے آنے پر بھی القاعدہ جیسے جنگجووں کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈرون حملوں کا مرکز وزیرستان ہی ہے لیکن ان میں زیادہ تر حملے شمالی وزیرستان میں ہوتے ہیں کیونکہ جنوبی وزیرستان میں حکیم اللہ گروپ کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد اکثر علاقے طالبان سے خالی ہو چکے ہیں۔

محبت کی شادی کے ’محافظ‘

محبت-کی-شادی-کے-’محافظ‘

بھارت میں بہت سے لوگوں کے لیے محبت کرنا ابھی تک ایک ’گناہ‘ ہے اور بیشتر شادیاں والدین کے ذریعے مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں۔

لیکن اب بھارت میں محبت کرنے والوں کے تحفظ کے لیے ’لو کمانڈوز‘ کا ایک گروپ تیزی کے ساتھ ابھر کر سامنے آ یا ہے۔

بھارتی سماج میں تیزی سے آنے والے بدلاؤ کے باوجود ایک لڑکے اور لڑکی کے لیے اپنی مرضی سے شادی کرنا آسان نہیں ہے خواہ وہ ایک دوسرے سے محبت ہی کیوں نہ کرتے ہوں، بالغ بھی ہوں اور اپنے پیروں پر بھی کھڑے ہوں۔

راجویر اور مادھوری کی شادی ان کے کنبے کے لوگوں کو منظور نہیں تھی کیونکہ دونوں مختلف ‎‎ذات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن آج دونوں میاں بیوی کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں اور اس کا سہرا جاتا ہے ’لو کمانڈو‘ کو جنھوں نے نہ صرف انھیں ملایا بلکہ انھیں تحفظ بھی فراہم کیا۔

تیئیس سال راجویر سنگھ کا کہنا ہے کہ جب وہ بارہ سال کے تھے تو مادھوری کا خاندان ان کے پڑوس میں آباد ہوا اور جب انہوں نے پہلی بار مادھوری کو دیکھا تو وہ چودہ سال کی تھیں۔ راجویر کے مطابق ’میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ہے وہ لڑکی جس سے میں شادی کروں گا۔ وہ شرارتی تھی اس کی مسکراہٹ خوبصورت تھی اور مجھے امید تھی کہ وہ میری اچھی طرح سے دیکھ بھال کرےگی‘۔

چمکیلی آنکھوں والی مادھوری کا بھی کہنا ہے کہ راجویر کو دیکھنے کے بعد ان کے دل میں بھی یہی احساس بیدار ہوا تھا۔ پھر دونوں برسوں ایک دوسرے کے ساتھ سکول جاتے رہے اور اپنی خوشیاں اور خدشات بانٹتے رہے یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں دیوانے ہو گئے۔

آپ جانتے ہیں اس کے بعد کیا ہوا؟ یہ بھارت ہے یہاں والدین رشتوں کو اسی طرح پرکھتے ہیں جیسے ناسا خلاء میں کوئی سیارہ چھوڑنے سے پہلے خلائی جہاز کی جانچ کرتا ہے۔

سب سے پہلے ذات دیکھی جاتی ہے، پھر صورت، پھر جنم کنڈلی ملائی جاتی ہے، قد دیکھا جاتا ہے، عادت و اطوار پر نظر ڈالی جاتی ہے، پھر تعلیم دیکھی جاتی ہے خاندان دیکھا جاتا ہے اور کھانے پینے کی عادات لیکن ان میں محبت کسی مرحلے پر نظر نہیں آتی۔

جب راجویر اور مادھوری نے اپنے والدین سے ایک دوسرے کے ساتھ شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو ان کا جواب صاف انکار میں تھا۔ راجویر ٹھاکر یا زمیندار خاندان سے ہیں جبکہ مادھوری بنیا یا تاجر برادری سے۔ بظاہر ان کا میل ناممکن تھا۔

لیکن یہ دونوں اپنے ارادے میں اٹل نکلے۔ مادھوری کے والدین اسے گاؤں واپس لے گئے اور تاکہ اس زبردستی اس کی مناسب جگہ شادی کر دی جائے۔ اسی دوران راجویر نے ایک منصوبہ بنایا اور ’لو کمانڈو‘ کے پاس پہنچ گیا۔

’لو کمانڈوز‘ لمبے چوڑے تلواریں لہراتے ہوئے لوگ نہیں۔ دس سال قبل کچھ کاروباری حضرات اور صحافیوں نے اس تنظیم کی شروعات کیں جس کا مقصد ایک دوسرے سے پیار کرنے والے لوگوں کو خاندان والوں اور سماج کی ایذا رسانی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

’لو کمانڈو‘ کے بانیوں میں سے ایک سنجوئے سچدیو نے بتایا کہ یہ بنیادی طور پر ایک ہیلپ لائن ہے اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے چلاتے ہیں۔ بھارت کے چاہنے والوں کو اگر تحفظ چاہیے تو یہ انھیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

لیکن اپنے خاندان والوں کو مرضی کے خلاف شادی کرنے والے جوڑوں کو بچانا اور انہیں تحفظ فراہم کرنا خاصا مہنگا اور مشکل کام ہے۔ دہلی میں ’لو کمانڈو‘ کا ایک ماہ کا خرچ تقریبا ڈھائی سے تین لاکھ روپے کے درمیان آتا ہے۔

سنجوئے کہتے ہیں، ’ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے، ہم اب بکھر گئے ہیں، ہمارے ساتھی چھوڑ کر چلے گئے، مجھے پتہ نہیں کہ ہم کب تک اس چلا پائیں گے‘۔

سنجوئے اور ان کے ساتھی مانتے ہیں کہ ذات پات پر مبنی ہندوستانی سماج میں تبدیلی کا واحد راستہ محبت کی شادی ہے۔ انھیں امید ہے کہ ان شادیوں سے ہونے والے بچے زیادہ آزاد اور زیادہ مساوی ہونگے۔

لیکن اگر راجویر اور مادھوری کو مثال مانا جائے تو تبدیلی لانے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ گذشتہ سال انھوں نے اپنے پرانے علاقے میں جاکر رہنے کا ارادہ کیا۔

چار افراد نے راجویر کو چاقو کی نوک پر روک لیا، وہ انھیں سنسان جگہ پر لے گئے راجویر کو باندھ کر خوب پیٹا گیا اور انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا گیا۔

شروع میں تو پولیس نے کسی کارروائی سے انکار کر دیا پھر لوو کمانڈو کی مدد سے پولیس میں شکایت درج کی گئی۔ مادھوری کا ماننا ہے کہ یہ سب ان کے خاندان والوں نے ہی کرایا ہے۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ بھارت کی ایک ارب سے زیادہ آبادی میں سے چالیس فیصد لوگوں کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے۔ یہاں پیار کرنا آسان نہیں ہے، لیکن اب ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ہمت کر کے وہی کرتے ہیں جو ان کے دل میں آتا ہے۔

لو کمانڈو کے لیے محبت ایک جنگ ہے اور وہ اس وقت تک اپنا یہ مشن جاری رکھیں گے جب تک وہ ایساکرنے کے اہل ہیں۔

’پاکستان کے پاس بھارت سے زیادہ جوہری ہتھیار‘

’پاکستان-کے-پاس-بھارت-سے-زیادہ-جوہری-ہتھیار‘

پاکستان اور بھارت دونوں نے انیس سو اٹھانوے میں اپنی جوہری قوت کا اعلان کیا تھا۔

سویڈن کے رسرچ ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ یعنی سپری نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں۔

سپری کے مطابق بھارت کے پاس اسّی سے سو جبکہ پاکستان کے پاس نوّے سے ایک سو دس جوہری ہتھیار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان دونوں ہی ممالک ملٹری مقاصد کے حصول کے لیے اپنے جوہری ہتھیار کے زخیروں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

سپری نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے ’بھارت اور پاکستان مسلسل ایسے نطام بنا رہے ہیں جس سے جوہری ہتھیاروں کا استعمال اور ان کی توسیع ملٹری ضروریات کے لیے کی جا سکیں۔‘

اس کے باوجود بھارت اور پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد سنہ دو ہزار گیارہ اور بارہ کےدرمیان ایک جیسی رہی ہے۔

انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ دنیا کے آٹھ جوہری ممالک کے پاس انیس ہزار ایٹمی ہتھیار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنہ انیس سو اٹھانوے کے بعد پہلی بار سن دو ہزار گیارہ میں دنیا کے ملٹری اخراجات میں دو ہزار دس کے مقابلے میں بہت کم اضافہ درج کیا گیا ہے۔

سپری نے جو اعداد و شمار پیش کیے ان کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ میں دنیا بھر میں فوجی ساز و سامان پر ایک اعشاریہ سات تین کھرب امریکی ڈالر خرچ کیے گئے جو کہ دو ہزار دس کے مقابلے میں صرف صفر اعشاریہ تین فی صد کا اضافہ ہے۔

امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان اور اسرائیل کے پاس کل ملاکر لگ بھگ انیس ہزار جوہری ہتھیار ہیں جبکہ سنہ دو ہزار گیارہ کے شروع میں اس کی تعداد بیس ہزار پانچ سو تیس تھی۔

سویڈن کے ادارے کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی کل تعداد میں کمی روس اور امریکہ کے سبب ہوئی ہے۔ اس کی وجہ دونوں ممالک میں جوہری ہتھیار کم کرنے کا سٹارٹ نامی معاہدہ ہے۔

ڈرون حملہ، ہدف القاعدہ کے اہم رہنما تھے

ڈرون-حملہ،-ہدف-القاعدہ-کے-اہم-رہنما-تھے

امریکہ کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد للیبی کو تنظیم کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا تھا

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پیر کو ڈرون حملے میں القاعدہ کے نائب سربراہ ابو یحییٰ اللیبی کو ہدف بنایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے القاعدہ رہنما بھی شامل ہیں کہ نہیں۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے سال دو ہزار نو میں بھی القاعدہ کے رہنما ابو یحییٰ اللیبی کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی تاہم بعد یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی۔

پاکستانی حکام کے مطابق پیر یہ حملہ تحصیل میر علی سے تین کلومیٹر دور جنوب کی جانب واقع گاؤں عیسو خیل میں کیا گیا۔ حملے میں ایک مکان اور وہاں آنے والے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر غیر ملکی جنگجو تھے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

امریکی حکام کا موقف ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ڈرون حملے ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں اور ان کا قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے۔

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو شمالی وزیرستان کے علاقے عیسو خیل میں ڈرون حملے میں اللیبی کو ٹارگٹ کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق اگر ڈرون حملوں میں القاعدہ رہنما کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ القاعدہ کے لیے ایک بڑا نقصان ہو گا۔

امریکہ کا خیال ہے کہ گزشتہ سال مئی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد للیبی کو تنظیم کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اللیبی پاکستان کے قبائلی علاقے میں روزہ مرہ کے آپریشنز کی نگرانی کرتے تھے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے سال دو ہزار نو میں بھی القاعدہ کے رہنما اللیبی کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی تاہم بعد یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آٹھ ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔

سلالہ چوکی پر حملہ، کم از کم پندرہ ہلاک

سلالہ-چوکی-پر-حملہ،-کم-از-کم-پندرہ-ہلاک

حملے میں شدت پسندوں نے راکٹ اور خود کار ہتھیاروں کا استعمال کیاجس سے چیک پوسٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں افغان سرحد کے اوپر سلالہ چوکی پر مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار سمیت پندرہ سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

مہمند ایجنسی میں ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی رات مسلح شدت پسندوں نے سلالہ چیک پوسٹ پر اس وقت حملہ کر دیا جب چیک پوسٹ میں ایک درجن سے زیادہ اہلکار موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں شدت پسندوں نے راکٹ اور خود کار ہتھیاروں کا استعمال کیاجس سے چیک پوسٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اہلکار کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں پندرہ سے زیادہ شدت پسند مارے گئے۔اہلکار کے مطابق حملہ آور افغانستان کی جانب سے آئے تھے جن کی تعداد ایک سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

نامہ نگار دلاورخان وزیر کے مطابق سلالہ چیک پوسٹ افغان سرحد کے قریب تحصیل بائیزئی کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے جہاں شدت پسندوں کی سرگرمیاں مہمند ایجنسی کے دوسرے علاقوں کے نسب زیادہ بتائی جاتی ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

انہوں نے اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ سلالہ چیک پوسٹ اس وقت پوری دُنیا میں مشہور ہوگئی جب چھبیس نومبر سنہ دو ہزار گیارہ کو نیٹو کے ہیلی کاپٹرز اور جنگی طیاروں نے اس کو نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں چوبیس پاکستانی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

ڈاکٹر شکیل کے معاملے پر پاکستانی وضاحت کا انتظار ہے، امریکہ

ڈاکٹر-شکیل-کے-معاملے-پر-پاکستانی-وضاحت-کا-انتظار-ہے،-امریکہ

امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں اب تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں اور ان کے خلاف الزامات کے معاملے میں پاکستان جس ناقابل فہم انداز میں پیچھے ہٹا ہے اور اپنا مؤقف بدلا ہے، اس پر امریکہ، پاکستان سے صاف صاف وضاحت کا منتظر ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے اب سے چند گھنٹے پہلے واشنگٹن میں اخباری بریفنگ کے دوران یہ بات کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر آفریدی کے بارے میں امریکہ کا مؤقف بہت واضح ہے کہ پاکستان میں انہیں قید کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے چہ جائیکہ ان پر مقدمہ چلایا جاتا۔

انہوں نے کہا ’ ڈاکٹر آفریدی کے معاملے میں جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ ہمارا مؤقف بہت واضح ہے کہ ہم نہیں سمجھتے کہ انہیں قید میں رکھنے کی کوئی وجہ یا بنیاد موجود ہے۔ چہ جائیکہ کہ انہیں کسی غلط کاری پر مجرم قرار دیدیا جائے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ڈاکٹر آفریدی کو مجرم قرار دینے کی کوئی بنیاد یا وجہ نہیں ہے لیکن کیا امریکہ کو اب تک یہ پتہ بھی چل پایا ہے کہ ڈاکٹر آفریدی کو سزا کس بنیاد پر دی گئی ہے تو ان کا جواب تھا۔

’ہمیں اب تک انتظار ہے۔ ڈاکٹر آفریدی کے بارے میں پاکستان ناقابل فہم انداز میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹا ہے۔ جیسا کہ خبروں میں بھی آیا ہے کہ اب پاکستان کے بقول انہیں طالبان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سزا دی گئی ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق ہمیں ابھی حکومت پاکستان سے اس بارے میں صاف صاف وضاحت آنی ہے کہ اس معاملے میں اسکا مؤقف کیوں بدلا ہے۔‘

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں پر پاکستانی ردعمل کے بارے میں سوال پر امریکی ترجمان نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خاص طور پر کلاسیفائیڈ آپریشنز کے بارے میں بات نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر اس نکتے پر زیادہ وسیع پیرائے میں بات کروں تو جیسا کہ ہم پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ القاعدہ کے خلاف کارروائی اور پاکستان کو خطے میں مستحکم ملک کے طور پر ابھرتا دیکھنے میں ہمارے اور پاکستان کے ساتھ مفادات یکساں ہیں۔ خود پاکستان کو ان شدت پسند گروہوں سے سخت خطرہ ہے اسی لیے ہم پاکستان کے ساتھ دہشتگردی کے خاتمے میں تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔‘

پاکستان کے راستے نیٹو کے سامان رسد کی بحالی کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس پر پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر بات چیت جاری ہے اور اسی اختتام ہفتہ پر نائب وزیر خارجہ تھامس نائیڈز نے اس معاملے پر پاکستانی وزیر خزانہ سے بھی بات کی ہے اور یہی کہا ہے کہ یہ سب کے مفاد میں ہے کہ مواصلات کے یہ راستے کھلیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نیٹو کی سپلائی لائن پر محتاط پیش رفت ہوئی ہے اور امریکہ اس معاملے پر ہر سطح پر بات چیت کا عمل جاری رکھے گا۔