یوم وفات ام المصائب عقیلہ بنی ھاشم حضرت زینب (س

یوم-وفات-ام-المائب-عقیلہ-بنی-ھاشم-حضرت-زینب-س

سیارہ زہرہ کا نایاب نظار

سیارہ-زہرہ-کا-نایاب-نظار

نظام شمسی کا  دوسرا سیارہ زہرہ کچھ ہی دیر میں اپنے مدار میں سفر کرتے ہوئے سورج اور زمین کے درمیان سے گزرے گا۔ یہ فلکیاتی واقعہ ایک سو سال سے زائد عرصے بعد پیش آتا ہے جس کا نظارہ کروڑوں اہل زمیں کریں گے۔اگلی مرتبہ اس طرح کا منظر تقریباﹰ ایک صدی کے بعد دیکھا جا سکے گا  ۔وینس  لگ بھگ 126000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے گرد اپنا چکر 224.7 دنوں میں مکمل کرتا ہےجبکہ ہماری زمین کی رفتار تقریباﹰ 10700 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

لوگوں کے پاس زندگی کا یہ آخری موقع ہوگا کہ وہ اس نادر فلکیاتی واقعے کا نظارہ کر لیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس نظارے کو براہ راست آنکھوں یا دوربین سے دیکھنے سے آنکھوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے یہان تک کہ نابینا ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔

علامہ محمد امین شہیدی سے لیاقت بلوچ کی ملاقات

علامہ-امین-شہیدی-سے-لیاقت-بلوچ-کی-ملاقات

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی سے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ میں جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ نے ملاقات کی۔ جس میں ملی یکجہتی کونسل کی بحالی ،پاکستان میں امریکی مداخلت، امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور ملک کی موجودہ سیاسی و مذہبی صورتحال پرسیر حاصل گفتگو کی گئی۔مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ اس موقع پر لیاقت بلوچ سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ملی یکجہتی کونسل کی بحالی خوش آئند بات ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے ایسے انداز میں لے کر آگے چلا جائے کہ اس میں تمام مکاتب فکر کی یکساں نمائندگی ہو اور پھر اس فورم سے ملک و ملت کی فلاح کے لئے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ جو معاشرے میں تحمل و برداشت کی فضاء کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوں اور مذہبی سکالرز کی اتحاد بین المسلمین کے لئے کی جانے والی کاوشیں عوامی سطح پر بھی ثمر آور ثابت ہوسکیں۔ جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری  لیاقت بلوچ جنہیں گذشتہ روز ملی یکجہتی کونسل میں رابطہ سیکرٹری کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل قاضی حسین احمد ایسی شخصیت کی سربراہی میں انشاء اللہ امت مسلمہ کی وحدت کے لئے امید کی کرن ثابت ہو گی۔ ہماری اولین ترجیح پاکستانی معاشرے کو اسلامی فلاحی معاشرہ اور مملکت خداداد پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر متعارف کروانا ہے جس میں تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ گلگت  بلتستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کی دونوں رہنماؤں نے بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے گلگت  بلتستان سمیت ملک میں بھر میں باقاعدہ کوششیں کی جائیں گی اور اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے تنظیمی ڈھانچے میں مصالحتی کمیشن اور تقریب المذاہب کا کمیشن قائم کیا جا رہا ہے جس میں تمام مسالک کے جید علمائے کرام شامل ہوں گے جو معاشرے میں باہمی احترام و اخوت کی فضاء کو فروغ دینے کے لئے عملی کاوشیں کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امت مسلمہ کے تمام مسائل کا حل اتحاد بین المسلمین میں پنہاں ہے۔ملک میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت کو دونوں رہنماؤں نے وطن عزیز کی سا  لمیت اور خودمختاری پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے قوم کو اسے حوالے سے متحد کیا جائے گااور ہر سطح پر اس کی بھرپور مذمت و مخالفت کی جائے گی۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ امریکہ او ر اس کی حواری قوتوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ہر حوالے سے ہر سطح پر ہر قسمی نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ان قوتوں کی آنکھوںمیں ایٹمی پاکستان کھٹکتا ہے جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود آیا۔ رہنماؤں نے  ملک میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کو ملکی سلامتی و استحکام کے خلاف گہری سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن دشمن قوتوں کو امریکہ اور مغرب کی آشیر باد حاصل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمرانوںکا طرز حکمرانی اسلامی اصولوں کے مطابق ہو تاکہ جہاں انہیں خود عالمی سطح پر عزت و وقار ملے وہاں خط غربت سے نیچے گزر بسر کرنے والی عوام کی حالت بھی بہتر ہو سکے۔ ذرائع شیعت نیوز

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بسم-اللہ-الرحمن-الرحیم

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سلام علیکم ۔

صحافی سلیم عاصمی کی کتاب کی رونمائی

صحافی-سلیم-عاصمی-کی-کتاب-کی-رونمائی

سینئیر صحافی سلیم عاصمی کی کتاب کی رونمائی کا اہتمام سنیچر کو کراچی میں کیا گیا اور انہیں لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ بھی پیش کیا گیا۔

ان کے اعزاز میں اس تقریب کا اہتمام کراچی پریس کلب میں کیا گیا جہاں ان کے چاہنے والوں کی خاصی تعداد نے شرکت کی۔

دشتِ صحافت میں طویل سفر طے کرنے کے بعد سلیم عاصمی انگریزی روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ وہ دو بار کراچی پریس کلب کے صدر بھی رہے۔ ان کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر کراچی پریس کلب نے انہیں لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا۔

اس موقع پر مقررین نے ان کی زندگی کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا اور ان کی شخصیت میں پنہاں کئی خصوصیات کو عیاں کیا۔

اپنی عمر اور علالت کے باعث انہیں وہیل چیئر پر سٹیج تک لایا گیا جہاں ان کے ساتھ ڈان کے موجودہ ایڈیٹر ظفر عباس، صحافی آئی اے رحمان، کراچی پریس کلب کے صدر طاہر حسن خان، اور دیگر موجود تھے۔

انتہائی کم گو اور پُرشکوہ شخصیت کے حامل سلیم عاصمی نے اپنی مختصر گفتگو میں کسرِ نفسی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کے جن پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا اور ان کی جو خصوصیات گِنوائی گئیں، ان میں سے چند کا تو خود اُن کو بھی علم نہیں تھا۔

سلیم عاصمی کی کتاب، اخبارات اور رسائل میں شائع ہونے والے ان کے مضامین، انٹرویوز اور ریویوز پر مشتمل ہے جس کی تدوین ایس ایم شاہد نے کی ہے۔

تقریب کا اہتمام کراچی پریس کلب میں کیا گیا جہاں ان کے چاہنے والوں کی خاصی تعداد نے شرکت کی۔

ایس ایم شاہد نے اس موقع پر کہا کہ انہوں نے سلیم عاصمی کو بمشکل راضی کیا کہ وہ اپنے منتخب مضامین کو کتابی شکل دیں تاہم انہوں نے کافی پس و پیش سے کام لیا۔

ایس ایم شاہد نے کہا کہ شروع میں سلیم عاصمی نے اس خیال کو رد کرتے ہوئے کہا کہ رات گئی بات گئی، اب اسے شائع کرنے سے کیا حاصل۔

تاہم انہوں نے کہا کہ سلیم عاصمی کو منانے کی کوششیں جاری رہیں یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ ’جو کرنا ہے کرو۔‘

پچاس برس پر محیط اپنی رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے صحافی آئی اے رحمان نے کہا کہ سلیم عاصمی انتہائی کم گو واقع ہوئے ہیں اور وہ اپنے بارے میں بھی بہت کم ہی بتاتے ہیں۔

ان کے ساتھ کام کرنے والے رفقاء میں ڈان کے سینئیر صحافی محمد علی صدیقی نے کہا کہ انہوں نے تین بہترین نیوز ایڈیٹر دیکھے ہیں جن میں سلیم عاصمی بھی شامل ہیں۔

اس تقریب کی کمپیئرنگ صحافی بابر ایاز نے کی۔ اس تقریب میں سلیم عاصمی کی کتاب رعایتی قیمت پر دستیاب تھی۔

دفاعی تعلقات، امریکی وزیر دفاع کا دورہ

دفاعی-تعلقات،-امریکی-وزیر-دفاع-کا-دورہ

امریکہ کے وزیر دفاع لیون پنیٹا دفاعی تعلقات کے لیے دو دن کے دورے پر بھارت کے دارالکحومت دلی پہنچ گئے ہیں۔

ان کے دورے کا مقصد بھارت اور امریکہ کے دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے دلی پہنچنے کے بعد بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے مفصل بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس ملاقات میں باہمی دفاعی معاملات کے علاوہ پاکستان کی صورت حال اور دو برس بعد افغانستان سے امریکی افواج کے ممکنہ انخلاء کے بعد حالات پر تبادلۂ خیال کیا۔

لیون پنیٹا بدھ کو وہ اپنے بھارتی ہم منصب اے کے اینٹونی اور قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن سے مزاکرات کرنے والے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ اس دورے میں بعض دفاعی سودوں پر بھی بات ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی رہمنا بحرالکاہل خطے میں امریکہ کی طویل مدتی عسکری حکمت عملی پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔

لیون پنیٹا امریکہ کے وزیر دفاع کے طور پر پہلی بار بھارت آئے ہیں۔ وہ اپنی بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی سازوسامان کی خریداری کے راستے ہموار کرنے میں مدد کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سات برس میں بھارت نے امریکہ سے آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ کے فوجی ساز و سامان خریدے ہیں۔

دلی میں امریکہ کی نئی سفیر نینسی پاول نے کچھ دنوں پہلے کہا تھا کہ دونوں ممالک اضافی آٹھ ارب ڈالر مالیت کے تجارتی اور فوجی سودے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

وزارت دفاع نے چھ سو ملین ڈالر مالیت کی ڈیڑھ سو ہلکی ہاوٹزر توپیں اور فضائیہ کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کے بائیسں اپاچی ہیلی کاپٹرز خریدنے کی منظوری دی ہے لیکن ان سودوں کو حتمی شکل دیا جانا باقی ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اس برس کے اوائل میں بحرالکاہل خطے کے لیے اپنی جس طویل مدتی عسکری حکمت کا ذکر کیا تھا اس میں بحر ہند خطے میں سلامتی برقرار رکھنے کے لیے بھارت کے ساتھ طویل مدتی عسکری اشتراک کی بات کہی گئی تھی۔

امریکہ کو خدشہ ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت سے امریکہ کے اقتصادی اور سلامتی کے مفادات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

بھارت کے بارے میں عسکری ماہرین کا یہ خیال ہے کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو قابو میں رکھنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن بھارت ابھی تک چین سےاس طرح کے ٹکراؤ کے تاثرات دینے سے گریز کرتا رہا ہے ۔تاہم حالیہ مہینوں میں بھارت نے چین کے جنوبی سمندر میں اپنے بحری جنگی جہاز بھیج کر اپنی پوزیشن پر زور دینے کی کو شش کی ہے۔

بھارت نے حال میں تھائی لینڈ اور ویت نام سے دفاعی معاہدے کیے اور جنوبی کوریا میں اپنا دفاعی اتاشی مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لیون پنیٹا بھارتی رہنماؤں سے اپنی بات چیت میں ان سوالوں پر مفصل بات چیت کریں گے۔

ویتنام سے دلی کے لیے روانہ ہونے سے قبل وزیر دفاع پنیٹا نے کہا ’میں ایک ایسے ملک سے ایک مضبوط دفاعی تعلقات قائم کرنے کے لیے جا رہا ہوں جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ وہ اکیسویں صدی میں خوشحالی لانے اور سلامتی کے قیام میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔‘

شام کے بحران کے حل کے لیے پوتین پر دباؤ

شام-کے-بحران-کے-حل-کے-لیے-پوتین-پر-دباؤ

روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں یورپین یونین کی کانفرنس میں روسی صدر ولادیمیر پوتین پر شام کے بحران پر سخت موقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کے امکانات ہیں۔

ای یو کے رکن ممالک یہ چاہتے ہیں کہ ولادیمیر پوتین اپنے اتحادی ملک شام پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنے شہروں سے بھاری اصلحہ ہٹائے اور اقوام متحدہ کے سفیر کوفی عنان کے امن منصوبے پر پوری طرح سے عمل کرے۔

واضح رہے کہ روس اور چین امریکہ اور یورپین یونین کی جانب سے شامی صدر بشار الاسد کی مذمت اور ان کی برطرفی کے مطالبات کی مزاحمت کر رہے ہیں۔

سنیچر کو بشار الاسد کا کہنا تھا کہ شام میں ہولا قتل عام کے پیچھے ان کی فوج کا ہاتھ نہیں تھا۔

ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں صدر اسد نے شامی پارلیمنٹ سے کہا کہ ایک سو آٹھ افراد کا قتل عام ایک ایسا جرم ہے جو کوئی بڑے سے بڑا وہشی بھی نہ کرے۔

صدر اسد نے کہا ہے کہ شام میں بحران کا واحد حل سیاسی بات چیت ہے اور ’غیر ملکی مداخلت‘ سے شام منقسم ہو رہا ہے۔

یورپین کونسل کے صدر ہرمن وان رومپوئی، یوروپین کمیشن صدر جوز مینوئل باروسو اور ای یو خارجہ پالیسی چیف کیتھرن ایشٹن سوموار کو یورپین یونین کی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ جب سے پوتین صدر کی حیثیت سے لوٹے ہیں اس کے بعد سے یورپی سفارت کار اس ملاقات کو پوتین کے ساتھ رشتوں کی از سرنو بحالی کے ایک نادر موقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ یورپین یونین کے رہنماء اس موقعے سے تجارت اور ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر بھی بحث کریں گے۔ اس موقعے سے روس یورپی ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کے اقدام میں تیزی لانے کی کوشش کریں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یورپین یونین کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ روس اپنے اثرورسوخ کا پورا استعمال کرتے ہوئے (اسد) حکومت کو امن منصوبے پر عمل درآمد کرانے کے لیے راضی کرے۔‘

شام: مغربی ممالک کے سفارتکار ’ناپسندیدہ‘

شام-مغربی-ممالک-کے-سفارتکار-’ناپسندیدہ‘

شامی حکومت نے گیارہ مغربی ممالک کے سفارتکاروں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

منگل کو شام نے جن ممالک کے سفارتکاروں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ان میں امریکہ، برطانیہ اور ترکی کے سفیر بھی شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق متعدد ممالک نے شام سے اپنے سفیروں کو سکیورٹی اور سیاسی وجوہات کی بِنا پر پہلے ہی شام سے نکال لیا ہے۔

شامی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، سوئٹزر لینڈ، فرانس، اٹلی، سپین، بیلجیئم، بلغاریہ، جرمنی اور کینیڈا کے سفارتکاروں کو ناپسندیدہ قرار دے گیا ہے۔ان میں سے بیشتر ممالک کے سفارتکار پہلے ہی شام سے جا چکے ہیں۔

شام کا یہ ردِ عمل دنیا کی مختلف حکومتوں کی جانب سے ان کے سفیروں کو اپنے ممالک سے باہر نکال دینے کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔گزشتہ ہفتے تیرہ ممالک نے حولہ قتل عام کے بعد شام کے سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے امدادی تنظیموں کو ملک کے ان چار علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دی ہے جہاں پر سب سے زیادہ پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔

بین الاقوامی امدادی تنظیمیں شامی حکام سے کافی عرصے سے شام کے تشدد سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی اجازت مانگ رہی تھی۔

اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق شام میں کم از کم دس لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

بیروت میں موجود بی بی سے کے نامہ نگار جیم میور کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے اس فیصلے کے بعد مغربی ممالک شام کے ساتھ دوبارہ سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے کافی وقت لیں گے۔

واضح رہے کہ شام کے صدر بشارالاسد نے اتوار کو ایک تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں ’بیرونی مداخلت‘ تفریق پیدا کر رہی ہے۔شام کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام مذاکرات کی اہمیت کو سمجھتا ہے تاہم یہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔

ادھر شام میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ منگل کو تشدد کے دوران مزید سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں جھڑپوں اور سکیورٹی فورسز کے چیک پوائنٹس پر ہونے والے حملوں میں کم از کم اسّی شامی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

’سزا کالعدم تنظیم سےتعلق رکھنے پر دی گئی‘

’سزا-کالعدم-تنظیم-سےتعلق-رکھنے-پر-دی-گئی‘

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنائی جانے والے سزا کے فیصلے کے مطابق انہیں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر سزا دی گئی ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کی دفتر سے ملنے والی تین صفحوں پر مُشتمل فیصلے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے خیبرایجنسی میں کالعدم تنظیم لشکر اسلام امیر منگل باغ کو بیس لاکھ روپے دیے تھے۔

ایف سی آر میں دیے جانے والے فیصلے میں بتایاگیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کو طبی امداد فراہم کی تھی جس میں سید نور، ملک دین خیل اور حضرت خان سپاء کے ناموں کا ذکر کیاگیا ہے۔

اس سے پہلے پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پر مُلک سے غداری کرنے کے جُرم میں تیس سال سزا اور تین لاکھ پچاس ہزار روپے جُرمانہ عائد کیا ہے۔ اہلکار کے مطابق جُرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں وہ مزید تین سال جیل میں گزاریں گے۔

پولیٹکل انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والے فیصلے میں الزام لگایا ہے کہ خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے دفتر میں ہوتی تھی۔ جبکہ تحصیل باڑہ میں ساٹھ سے زیادہ تباہ ہونے والے سکولوں کی منصوبہ بندی بھی ان کے دفتر سے ہوئی تھی۔

فیصلے کی کاپی کے مطابق ڈاکٹر شکیل پر لگائے گئے الزامات جرگے اور پاکستان کے خُفیہ اداروں نے تحقیقات کے دوران ثابت کردیا ہے کہ وہ ان سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

انتظامیہ کے مطابق الزامات ثابت ہونے کے بعد ایف سی آر کے تحت ڈاکٹر شکیل کو تینتیس سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

دوسری طرف وزیر اعلٰی خیبر پختون خوا امیرحیدر خان ہوتی نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو جیل میں سخت سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکام کے مطابق خفیہ ادارے کی جانب سے وزیر اعلٰی خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی کو رپورٹ ارسال کی گئی تھی۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سینٹرل جیل کے اندر ایک الگ کمرے میں رکھا گیا ہے اور ان کی سکیورٹی پر بھی صرف دو اہلکار موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سینٹرل جیل پشاور میں اڑھائی سو خطرناک قیدیوں سمیت تین ہزار قیدی موجود ہیں جن میں زیادہ تر ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف جذبات رکھتے ہیں اور اس بات کاشبہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت ڈاکٹر شکیل آفریدی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

دوہری شہریت: ’انتخابات لڑنے پر پابندی غلط ہے‘

دوہری-شہریت-’انتخابات-لڑنے-پر-پابندی-غلط-ہے‘

بیرونِ ملک مقیم وہ پاکستانی جو دوسرے ممالک میں منتخب اداروں کے رکن ہیں، انہوں نے پاکستان میں دوہری شہریت کے حامل افراد کو انتخابات میں شرکت سے روکنے والے قانون کے اطلاق پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے برسلز میں یورپین پارلیمنٹ کے منتخب رکن سجاد کریم کا کہنا ہے کہ یہ بات ان کے کافی تشویش کا باعث ہے کہ اس وقت پاکستان میں ان پاکستانیوں کو جن کے پاس دوہری شہریت ہے دوسرے درجے کا شہری بنایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور چین نے اپنی ترقی بیرون ملک مقیم افراد کو قومی دھارے میں لاکر کی مگر پاکستان اپنے بیرونِ ملک مقیم شہریوں کو جو اس کا اثاثہ ہیں وہ خود سے انہیں نہ صرف دُور کررہا ہے بلکہ دوسرے درجہ کا شہری بنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس قانون کے نفاذ سے سب کا نقصان ہوگا اور کسی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں چلنے والے کیسز میں فریق تو نہیں مگر انہیں بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

برطانوی دارالعوام کے رکن خالد محمود جو برطانیہ کے شہر برمنگھم سے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں وہ بھی اس قانون کے اطلاق پر نالاں ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک سے باہر رہنے والے افراد کی اکثریت کے پاس دوہری شہریت ہے اور انہیں ووٹ کا حق دیا جارہا ہے تو پھر وہ انتخاب کیوں نہیں لڑسکتے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ غلط ہے تو پھر پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں ملک سے باہر اپنے دفاتر کیوں قائم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی تمام بڑی جماعتوں کے برطانیہ سمیت یورپ بھر میں دفاتر قائم ہیں اور اگر ایسا ہی کرنا ہے تو خود بھی پاکستان تک ہی محدود رہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی اسمبلی میں بھی ملک سے باہر مقیم افراد کے لیے نشستیں مخصوص ہیں۔

ناروے کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر اختر چوہدری بھی اس عمل پر سوال اٹھاتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ پاکستان شہری ہیں تو آپ کو برابری کے حقوق ملنے چاہیں۔ اول تو دوہری شہریت ہونا ہی نہیں چاہیئے اور اگر ہے تو پھر آئین اور قانون میں ان افراد کو جن کے پاس صرف پاکستان کی شہریت ہے اور انہیں جن کے پاس دوہری شہریت ہے مساوی حقوق دینے چاہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سیاست دانوں کو برابری کے حقوق دینا ہوں گے۔

پاکستان کی معیشت میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجےگئے زرِ مبادلہ کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے اور ملک سے باہر رہنے والےافراد کی اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تو سیاست میں کیوں نہیں۔